اداریہ

Authors

  • ادارہ

Abstract

دراساتِ ترجمہ کو گزشتہ تین دہائیوں میں ترقی یافتہ زبانوں کے محققین اور نظریہ سازوں نے جس سنجیدگی سے اپنی توجہ کا موضوع بنایا ہے اس کے  نتیجے میں یہ ایک آزاد شعبہ علم کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ محققین اور نظریہ سازوں کے علمی کاموں کا اثر ایک نئے بیانیے کے طور پر سامنے آیا ہے جس میں ترجمے کو سیاسی، سماجی اور ثقافتی تناظر میں دیکھنے کا رویہ عام ہورہا ہے۔ ترجمے کی سمت میں اس پیش رفت کو ثقافتی موڑ (cultural turn) سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ترجمے کے ابتدائی بیانیے کی وقعت کم ہوتی جارہی ہے مگر اس حقیقت سے منھ نہیں موڑا جاسکتا کہ دنیا میں علم کی روشنی بڑی حدتک ترجموں سے پھیلی ہے۔ دنیا بیش تر اہلِ دانش و بینش سے ترجموں کے ذریعے روشناس ہوئی ہے۔

                اردو میں ترجمے کی تاریخ دو صدیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ اس ضمن میں مختلف اداروں کا قیام بھی عمل میں آیا ہے۔ مختلف زبانوں کے متون کا اردو میں ترجمہ مختلف محرکات کے تحت کیا گیا ہے۔ ان محرکات میں مذہب، سیاست، ادب و دیگر موضوعات شامل رہے ہیں۔ نوآبادیات سے قبل اور بعد انگریزی ادب کو جس کثرت سے اردو میں منتقل کیا گیا ہے یہ ایک تحقیق طلب موضوع ہے۔

اس تحقیق طلب امر کے باوجود ترجمے کی اس روایت کو جاری و ساری رہنا چاہیے تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے میں بہ تدریج ایسے افراد کی کمی واقع ہو رہی ہےجو اردو سے انگریزی یا دیگر غیر ملکی زبانوں میں دسترس رکھتے ہوں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم ایسے افراد کی تربیت کرتے جو دیگر زبانوں سے اہم علمی و ادبی کتب کے اردو تراجم کو طلبہ اور اہل علم کے سامنے پیش کر تے لیکن جدید ترین ٹیکنالوجی نے اس عمل میں مشکلات پیدا کردی ہیں۔ اب طلبہ جدید مشینی ذرائع کو استعمال میں لاکر اپنا کام چلا لیتے ہیں جس سے زبان و بیان کی تفہیم پر جہاں ضرب پڑی ہے وہیں ہمارے تخیل،بلند پروازی اور انشا پردازی کا عمل مفقود ہو کر رہ گیا ہے۔

سوال یہ پیدا ہو تا کہ کیا مشینی ذرائع سے کسی بھی زبان کی کتابوں یا مضامین کا ترجمہ درست ہو سکتا ہے؟

اس سلسلے میں چند اہم باتوں کو ضرور مدِ نظر رکھا جا ناچا ہیے۔

پہلی بات تو یہ کہ جدید مشینوں اور آلات نے اب تک ۱۰۰ فی صدی درست ترجمہ نہیں کیا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں بہتری آرہی ہے۔ اب تک جو نتائج جدید مشینی ترجمے کے حوالے سے ہمارے سامنے آئے ہیں ان کے مطابق یہ ان زبانوں کے ترجمے کے بہتر نتائج فراہم کر رہا ہے جو ایک دوسرے سے لسانی، ثقافتی، تہذیبی اور علمی لحاظ سے قریب ہیں۔ مثلاً انگریزی، فرانسیسی، جرمن، ہسپانوی زبانوں میں اس کے درست تراجم کی شرح دیگر زبانوں کے مقابلے میں نسبتاً بہتر ہے۔

دوسرا یہ کہ مصنوعی ذہانت یا انٹرنیٹ کے ذریعے کیے گئے تراجم کا شاید واحد فائدہ وقت کی بچت ہونا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کسی متن کا ترجمہ کرنے سے مترجم کے سامنے فوری طور پر متن مطلوبہ زبان میں آجاتا ہے جسے کے بعد مترجم کو ترجمہ شدہ متن کو ہی دیکھنا ہوتا ہے اس طرح وہ متن کو ایک زبان سے دوسری  زبان میں ڈھالنے کی ذہنی مشقت سے بچا رہتا ہے۔ تاہم ترجمے کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کے فوائد شاید یہیں ختم ہوجاتے ہیں۔

مشینی آلات سے کیے گئے تراجم پر تیسرا سوال یہ  اٹھتا ہے کہ یہ کس حد تک درست اور قابل اعتبار ہوتے ہیں۔ تجربے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انتہائی سادہ زبان میں لکھے گئے متن کو مصنوعی ذہانت عمدگی سے مطلوبہ زبان میں منتقل کردیتی ہے تاہم جہاں متن میں استعمال کی گئی زبان پیچیدہ ہو یا بامحاورہ زبان استعمال ہو تو مصنوعی ذہانت کو اس کا ترجمہ کرنے میں مشکل ہوتی ہے اور بعض اوقات محاوروں کا بھی لفظی ترجمہ ہی ہوجاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی صلاحتیوں میں وقت کے ساتھ ساتھ بہتری تو آئی ہے لیکن یہ ابھی تک اس قابل نہیں ہوئی کہ متن کی اصل کے مطابق اس کا درست ترجمہ کرسکے۔

ان سب چیزوں کے باوجود کمپیوٹر یا دیگر آلات کی مدد سے جو تراجم سامنے آرہے ہیں ان کا ایک منفی پہلو یہ ہے کہ وہ زبان کے تاثرات، تشبیہات واستعارات کو سمجھنے سے قا صر ہیں۔ ان مشینوں کو اس کا علم نہیں کہ انسان کیسے بولتا ہے اور کس انداز میں لکھتا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ تراجم اگر درست نتائج بھی فراہم کرنے لگ جائیں تو وہ زبان کے فطری اسلوب اور اس میں موجود تاثیر کو بیان کر نے سے قا صر ہیں۔

یہاں یہ نکتہ اٹھتا ہے کہ پھر مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیے گئے تراجم کی درستی کو کس طرح جانچا جائے۔ تو اس کا جواب یہ ہے  کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیے گئے تراجم کو ایک ماہر مترجم ضرور دیکھے یا کم از کم کوئی ایسا فرد اس ترجمے کو ضرور پڑھے جو اصل متن کی زبان اور ترجمہ شدہ متن کی زبان پر عبور رکھتا ہے۔

اس حوالے سے یہ طریقہ کار مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ترجمے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو شجر ممنوعہ سمجھنے کے بجائے اسے ایک آلے (Tool) کے طور پر استعمال کیا جائے لیکن اسے وہی فرد استعمال کرے جو اصل متن کی زبان اور ترجمہ شدہ متن کی زبان پر عبور رکھتا ہو۔ یعنی مصنوعی ذہانت پر انسانی ذہانت کی نگرانی برقرار رکھی جائے۔

Downloads

Download data is not yet available.

Downloads

Published

2024-03-21

Issue

Section

Research Articles